لارڈز ٹیسٹ: انگلش ٹیم پہلی اننگز میں 290 رنز پر آؤٹ، پاکستان کی بیٹنگ جاری
پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان لارڈز ٹیسٹ کے دوسرے روز انگلش ٹیم اپنی پہلی اننگز میں 290 رنز بناکر پر آؤٹ ہوگئی، جس کے بعد اب قومی ٹیم کی بیٹنگ جاری ہے۔ قومی ٹیم نے کچھ دیر پہلے تک 10 اوورز میں ایک وکٹ کے نقصان پر 14 رنز بنالیے ہیں۔
لارڈز میں کھیلے جارہے دوسرے ٹیسٹ میچ میں پاکستان نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا، بارش کے باعث پہلے روز کھیل تاخیر سے شروع ہوا اور صرف 56 اوورز کا کھیل ممکن ہوسکا اور پہلے دن کے اختتام پر انگلینڈ 9 وکٹوں کے نقصان پر 248 رنز بنا چکا تھا۔
دوسرے روز انگلینڈ نے 248 رنز 9 کھلاڑی آؤٹ سے اپنی پہلی نامکمل اننگز دوبارہ شروع کی اور آخری وکٹ کے لیے مزید 42 رنز جوڑے۔
انگلینڈ کی آخری گرنے والی وکٹ گس آٹکنسن کی تھی، جو 45 رنز بنا کر علی عثمان کی گیند پر محمد علی کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے جب کہ جوش ٹنگ 30 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔ اس کے ساتھ ہی انگلینڈ کی پوری ٹیم 66.4 اوورز میں 290 رنز پر پویلین لوٹ گئی۔
انگلینڈ کی جانب سے جیمی اسمتھ 61 رنز کے ساتھ ٹاپ اسکورر رہے، انہوں نے 80 گیندوں کا سامنا کرتے ہوئے 10 چوکے لگائے اور جارڈن کاکس نے 55 رنز کی ذمہ دارانہ اننگز کھیلی۔ اسی طرح دیگر بلے بازوں میں بین ڈکٹ نے 17، ایمیلیو گے نے 8، کپتان جو روٹ نے 4، ہیری بروک نے 15، ڈین لارنس نے 17 اور جوفرا آرچر نے 14 رنز بنائے جب کہ اولی رابنسن بغیر کوئی رن بنائے آؤٹ ہوئے۔ انگلینڈ کے مجموعے میں اضافی رنز کی تعداد 24 رہی۔
پاکستان کی جانب سے محمد عباس سب سے کامیاب گیند باز رہے۔ انہوں نے 20 اوورز میں 73 رنز دے کر 4 وکٹیں حاصل کیں اور محمد علی نے 22 اوورز میں 86 رنز دے کر 3 وکٹیں حاصل کیں جب کہ خرم شہزاد اور علی عثمان نے ایک، ایک وکٹ حاصل کی۔
پہلے روز محمد عباس نے انگلینڈ کے ٹاپ آرڈر کو مشکلات سے دوچار کیا تھا۔ انہوں نے بین ڈکٹ، ایمیلیو گے، جو روٹ اور جفرا آرچر کو آؤٹ کیا جب کہ محمد علی نے ہیری بروک، جیمی اسمتھ اور اولی رابنسن کی وکٹیں حاصل کیں۔
پاکستان کے گیند بازوں نے ابتدائی مرحلے میں انگلینڈ کو شدید دباؤ میں رکھا۔ ایک موقع پر انگلینڈ 120 رنز پر 5 وکٹیں گنوا چکا تھا تاہم جارڈن کاکس اور جیمی اسمتھ نے چھٹی وکٹ کے لیے اہم شراکت قائم کرکے اپنی ٹیم کو مشکل صورت حال سے نکالا اور دونوں نے 67 رنز کی شراکت قائم کی۔
انگلینڈ کی پہلی اننگز 290 رنز پر مکمل ہونے کے بعد پاکستان نے اپنی پہلی اننگز کا آغاز کردیا ہے، شان مسعود اور اذان اویس نے اننگز شروع کی جب کہ امام الحق کو پنڈلی میں کھنچاؤ کی تکلیف کے باعث ابتدائی طور پر میدان سے باہر بھیجا گیا ہے، جس کے بعد شان مسعود کو اذان اویس کے ساتھ اوپننگ کے لیے بھیجا گیا۔
پاکستان نے اپنی پہلی اننگز کا مایوس کن آغاز کیا اور 5 رنز پر ہی پہلا نقصان اٹھانا پڑا، شان مسعود ایک رن بناکر جوفرا آرچر کی گیند پر کیچ آؤٹ ہوگئے۔
اس وقت پاکستان کی بیٹنگ جاری ہے اور قومی ٹیم نے کچھ دیر پہلے تک 10 اوورز میں ایک وکٹ کے نقصان پر 14 رنز بنالیے ہیں۔ آذان اویس 7 اور عبداللہ شفیق 4 رنز کے ساتھ کریز پر موجود ہیں۔
میچ کا ٹاس
پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان 3 ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا دوسرا میچ آج سے لارڈز کرکٹ گراؤنڈ میں کھیلا جا رہا ہے، دوسرے ٹیسٹ میچ کا ٹاس بارش کے تاخیر کا شکار ہوا تاہم تاخیر سے ہونے والے میچ کا ٹاس پاکستان کے کپتان بابر اعظم نے جیت کر پہلے خود فیلڈنگ کرنے کا فیصلہ کیا۔
دوسرے ٹیسٹ میچ کے لیے پاکستان ٹیم نے ایک تبدیلی کی گئی ہے، قومی ٹیم کے کپتان بابراعظم کی ٹیم میں واپسی ہوئی ہے جب کہ سلمان علی آغا کو ٹیم سے ڈراپ کردیا گیا ہے۔
ٹاس کے موقع پر کپتان بابر اعظم کا کہنا تھا کہ بطور کپتان لارڈز میں کھیلنا اعزاز کی بات ہے، اوور کاسٹ کنڈیشنز میں پچ پر موجود گھاس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گے۔
انگلش کپتان جو روٹ کا کہنا تھا کہ وہ بھی پہلے بولنگ کرنا چاہتے تھے، ٹیم میں ٹیم میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی، پچ دیکھنے میں اچھی لگ رہی ہے، بڑا اسکور کرنے کی کوشش کریں گے۔
پاکستان کا اسکواڈ
گرین شرٹس کی پلیئنگ الیون میں کپتان بابر اعظم، وکٹ کیپر بلے باز محمد رضوان، اذان اویس، امام الحق، شان مسعود، عبداللہ شفیق، سعود شکیل، علی عثمان، خرم شہزاد، محمد علی اور محمد عباس شامل ہیں۔
انگلینڈ کا اسکواڈ
انگلینڈ کی ٹیم میں کپتان جو روٹ، ایمیلی گائے، بین ڈکٹ، جارڈن کوکس، ہیری بروک، ڈین لارنس، جیمی اسمتھ، گس ایٹکنسن، جوفرا آرچر، اولی روبنسن اور جوش ٹنگ شامل ہیں۔
یاد رہے کہ انگلینڈ کو 3 میچوں پر مشتمل ٹیسٹ سیریز میں 0-1 کی برتری حاصل ہے۔ لیڈز میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میچ میں انگلینڈ نے پاکستان کو ایک اننگز اور 103 رنز کے بڑے مارجن سے شکست دی تھی۔
لارڈز ٹیسٹ میں پاکستان کے لیے یہ موقع ہے کہ وہ پہلی اننگز میں انگلینڈ کے 290 رنز کے جواب میں مضبوط بیٹنگ کرکے سیریز برابر کرنے کی پوزیشن حاصل کرے۔
یہ سیریز انگلینڈ میں پاکستان کی 2020 کے بعد پہلی ریڈ بال سیریز ہے، دونوں ٹیمیں 5 سال قبل 3 ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں آمنے سامنے آئی تھیں، جس میں انگلینڈ نے ایک میچ میں کامیابی حاصل کی تھی جب کہ دو میچ ڈرا ہوگئے تھے۔
پاکستان نے آخری مرتبہ 1996 میں انگلینڈ میں ٹیسٹ سیریز جیتی تھی، جب وسیم اکرم کی قیادت میں پاکستانی ٹیم نے 1-2 سے کامیابی حاصل کی تھی۔ یہ انگلینڈ میں پاکستان کی ٹیسٹ سیریز میں مسلسل تیسری کامیابی تھی۔ اس سے قبل عمران خان کی قیادت میں 1987 اور جاوید میانداد کی کپتانی میں 1992 میں پاکستان نے انگلینڈ کو ٹیسٹ سیریز میں شکست دی تھی۔
دونوں ٹیمیں مجموعی طور پر 93 ٹیسٹ میچوں میں ایک دوسرے کا سامنا کر چکی ہیں۔ انگلینڈ نے 31 اور پاکستان نے 23 میچ جیتے جب کہ 39 ٹیسٹ بے نتیجہ رہے ہیں۔